رپورٹ کے مطابق عثمان نامی شخص نے خالد خواجہ اور دیگر افراد کو اغواء کیاتھا ۔ دوسری جانب ایشین ٹائیگرنامی تنظیم نے خالد خواجہ کے قتل کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔ تنظیم کاکہناہےکہ خالد خواجہ کو لال مسجد کے واقعے میں ملوث ہونے کی وجہ سے قتل کیا گیا ہے ۔ خالد خواجہ ، کرنل ریٹائرڈ امام اور برطانوی صحافی اسد قریشی کو چھبیس مارچ کواغواء کیا گیا تھا کہ جس کی ویڈیو بھی جاری کی گئی تھی ۔ ویڈیومیں خالد خواجہ ، کرنل ریٹائرڈ امام اور برطانوی صحافی اسدقریشی نے کہاتھاکہ انھیں مسلح افراد نے اغواء کیاہے۔
رواں سال مارچ کی چھبیس تاریخ کو آئی ایس آئی کے ایک اور سابق اہلکار سلطان عرف کرنل امام کے ہمراہ قبائلی علاقوں کی جانب جاتے ہوئے اغوا کر لیا گیا تھا۔ اس کے چند روز بعد ’ایشین ٹائیگرز’ نامی ایک نامعلوم تنظیم نے میڈیا کو ای میلز میں اس اغوا کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے ان کے بدلے حکومت سے ملا برادر جیسے چند اہم افغان طالبان کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔
پچپن سالہ خالد خواجہ کے اس اغواء پر مختلف حلقوں کی جانب سے حیرت کا اظہار کیا جا رہا تھا کیونکہ انھوں نے افغانستان پر طالبان کے قبضے میں کرنل امام سمیت دیگر اہم اہلکاروں کے ساتھ مل کر اہم کردار ادا کیا تھا اور افغان طالبان کا حامی سمجھا جاتا تھا اس کے باوجود اغوا کے چند روز بعد ایک ویڈیو میں خالد خواجہ نے اسلام آباد میں لال مسجد کے واقعے میں خفیہ اداروں کےلیےکام کرنے کا اعتراف کیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ افغان طالبان اور پاکستانی طالبان الگ الگ افکار کی ترویج کررہے ہیں اور یہ پاکستانی طالبان کے افغان طالبان کے ساتھ شدید اختلافات کا شاخسانہ بھی ہوسکتا ہے۔ کوہاٹ سے سابق رکن قومی اسمبلی اور دہشت ٹولوں کے کوارڈی نیٹر جاوید اقبال پراچہ نے ایک اخباری بیانات میں بتایا تھا کہ انہیں ایشین ٹائیگرز نے اس معاملے میں ثالثی کے لیے کہا تھا تاہم ان کی ہلاکت سے لگتا ہے کہ ان کی کوششیں کوئی زیادہ آگے نہیں بڑھ سکی ہیں۔ یہاں اس بات کا ثبوت بھی ملتا ہے کہ جاوید پراچہ واقعی دہشت ٹولوں کے کوارڈی نیٹر ہیں اسی بنا پر پاکستانی طالبان کے ایک نوظہور ٹولے "ایشین ٹائیگرز" نے بھی ان ہی سے اس معاملے میں ثالثی کے لیے کہا تھا!۔......../110